سعودی ولی عہد نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے امریکہ کے سامنے 3 شرائط رکھ دیں۔

محمد بن سلمان نے امریکی وزیر خارجہ کو کہا کہ ترکی اور قطر کے ساتھ تعلقات معمول پر آئیں۔ مسلم امہ میں سعودی عرب کی بالادستی قائم رہے، جمال خشوگی کے معاملے میں سعودی عرب کا نام حذف کیا جائے۔سینئر صحافی صابر شاکر

لاہور ( تیز ترین ) سینئر صحافی صابر شاکرنے کہا ہے کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیوم شہر میں امریکی وزیر خارجہ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات ہوئی۔ جس مقصد کو لے کر مائیک پومیو محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے گئے تھے وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔
امریکہ اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب پیغام لے کر گئے تھے کہ آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے جانے سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کر لیں، تاہم یہ ملاقات کامیاب نہ ہو سکی۔ محمد بن سلمان نے شرائط رکھی ہیں۔ اسرائیل کو ابھی اس لیے تسلیم نہیں کیا گیا کیونکہ شاہ سلمان اُس حد تک راضی نہیں تھے جس حد تک محمد بن سلمان راضی تھے۔ صابر شاکرنے کہا ہے کہ محمد بن سلمان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تین شرائط رکھی ہیں۔ ولی عہد چاہتے ہیں کہ ترکی اور قطر کے ساتھ ان کے تعلقات معمول پر آئیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ سعودی عرب کی بالادستی قائم رہے۔ مسلم امہ میں بھی ہماری برتری قائم رہے،جو دفاعی معاہدے ہوئے ہیں ان کو برقت پورا کیا جائے، محمد بن سلمان نے تیسری شرط یہ رکھی کہ خشوگی کے معاملے میں سعودی عرب یعنی کہ محمد بن سلمان کا نام حذف کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ اب امریکہ تک پہنچ چکا ہے اور امریکی عدالتوں میں اس کیس کے حوالے سے کاروائی کا آغاز بھی کر دیا گیاہے۔ ایک بار جب محمد بن سلمان امریکا کا دورہ کرنے جا رہے تھے تو آخری وقت میں ان کا دورہ کینسل کر دیا گیا تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.