کورونا وائرس: لاک ڈاؤن کے دوران سائکل ٹھیلے پر دہلی سے اپنے گاؤں 10 دن میں پہنچا

 رام باغ روڈ پر رہنے والے سبھی ٹھیلے والے جا رہے تھے تو ہم بھی ان کے ساتھ چل دیے اور دس دن میں اپنے گھر پہنچ گئے”۔”

  سمیرنے جب مجھے فون پر بتایا تو یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ اس شخص نے 1200 کلو میٹر کا سفر ٹھیلا چلا کر طے کیا ہے  

سمیر 38 سال کا ہے اور گزشتہ 18 سال سے دلی کی آزاد مارکیٹ میں مزدوری کرتے تھے۔ 22 مارچ کو ’ملک گیر کرفیو‘ لگنے کے بعد ہی وہ اپنے مزدور ساتھیوں کے ساتھ گھر کی جانب نکل پڑے تھے۔

ان کا کہنا تھا ‘کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ سب کچھ بند ہو چکا تھا کچھ کمائی نہیں ہو رہی تھی۔ چائے اور کھانے پینے کی دوکانیں بند تھیں۔ ہم رام باغ سڑک پر سوتے تھے اور اب پولیس وہاں سے بھی بھگا رہی تھی تو کیسے وہاں رہ سکتے تھے اس لیے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

راستے کی مشکلات

سمیراور ان کے ساتھی 22 مارچ کو اپنے اپنے ٹھیلے اور ایک وقت کا کھانا لے کر چلے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کچھ روپے تھے لیکن راستے میں لوگ پیٹ پوجا کی خاطر کیلے، پانی اور پوری وغیرہ بانٹ رہے تھے ہم نے وہی سب کھا کر گزارہ کیا۔  ان کا کہنا تھا کہ راستے میں پولیس بھی مل رہی تھی لیکن انہوں نے ہم سے صرف دور دور رہ کر چلنے کے لیے کہا۔ سمیر کہتے ہیں کہ ‘ہم راستے میں جگہ جگہ رک کر آرام کرتے تھے اور پھر آگے بڑھ جاتے تھے۔

Screenshot 1

سمیر یومیہ 300 روپے کماتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو گوپال گنج کی سرحد سے سرکاری بس نے دربھنگہ ضلع میں اتار دیا جس سے انہیں بہت مدد ملی۔ دربھنگہ سے وہ اور ان کے ساتھی اپنے اپنے گاؤں کی سمت نکل پڑِے۔

Screenshot 2

بچوں نے ابو سے دور سے دعا سلام کی

سمیر کے چار بچوں اور بیوی زیتون خاتون نے انہیں دور سے ہی سلام کیا۔  سمیر کی بیوی ایک ہاتھ اور پیر سے معذور ہیں۔ وہ آج تک گاؤں سے باہر نہیں گئیں اور سمیر کا ٹھیلا چلا کر گاؤں پہنچنے کی خبر سے گھبرائی ہوئی تھیں۔

سمیر کا کہنا تھا کہ راستے بھر وہ اپنی بیوی سے بات کرتے رہے وہ اس طرح سفر کرنے کے لیے منع کرتی تھیں لیکن ان کے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ اب سمیر گاؤں میں ہیں لیکن ابھی انھیں سکول میں تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ گھر والے انہیں دور سے مل کر چلے جاتے ہیں۔

دلی سے واپس آنے والے زیادہ تر مزدوروں کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں اور وہ واپس دلی نہ جانے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن سمیر کے حوصلے بلند ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دلی واپس ضرور جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ٹرینیں چلیں گی تو وہ دلی جا کر نیا ٹھیلا خریدیں گے۔ اور پھر سے کام شروع کریں گے اللہ پھر سے روزگار دے گا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.