روزمرہ اشیائے ضروریہ کی دوکانوں، بینکوں میں کرونا کی وباء سے متعلق ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمودخان

پشاور ( تیز ترین ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ محکموں کے اعلی حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبہ بھر میں کورونا متاثرین کے لئے قائم کئے گئے قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز کے بہترین انتظامات، ان مراکز میں تعینات عملے کے تحفظ اور ان مراکز کو چلانے کے لئے وضع کردہ قوائد و ضوابط پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہر ضلع کی سطح پر محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو فوکل پرسن مقرر کیا جائے۔ وزیراعلی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی دوکانوں، بینکوں اور ضروری خدمات کی فراہمی کے دیگر مقامات میں حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے، تاکہ کورونا وباء کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

وہ گذشتہ روز کورونا وباء کے پھیلاؤ کے تدارک کے لئے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ ہائے داخلہ، صحت اور ریلیف کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں کورونا کی لمحہ لمحہ بدلتی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے صوبائی سطح پر مرکزی کووڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے علاوہ ہر ضلع اور ہر تحصیل کی سطح پر کووڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز قائم کئے گئے، اور ان کمانڈ اینڈ کنڑول سنٹرز میں محکمہ صحت، ریلیف، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ اجلاس کو مزید بتا گیا کہ اس وقت صوبے میں مجموعی طور پر 215 قرنطینہ مراکز، 554 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور 2400 بستروں کے آئیسولیشن یونٹس قائم کئے گئے۔ اور ضرورت کے مطابق ان میں اضافہ کرنے کے لیے انتظامات تیار ہیں ۔ ان مراکز میں تعینات ہیلتھ ورکز اور دیگر ضروری عملے کو بنیادی نوعیت کی حفاظتی اشیاء فراہم کری گئی ہیں، اور ان حفاظتی اشیا کی فراہمی کو مزیر بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ وزیر اعلی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹس کے لئے ڈویژنل سطح پر ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے اور مقصد کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیر اعلی نے کہا کورونا وباء کی وجہ سے اس وقت غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے اور یہ صورتحال ہم سے غیر معمولی اور فوری نوعیت کے اقدامات کا تقاضا کرتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان فوری نوعیت کے اقدامات میں ہم سے غلطی اور کوتاہی بھی سرزد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی سطح پر اور خصوصا میڈیا کی طرف کسی ایسی غلطی یا کوتاہی کی نشاندہی ہونے پر اسے کھلے دل سے تسلیم کر کے اس غلطی اور کوتاہی کو ٹھیک کرنے کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے جائیں ۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.