کرونا وباء کے پیشِ نظر ذوالفقارعلی بھٹو کی 41 ویں برسی انتہائی سادگی سے منائی گئی۔ دعائیہ تقریبات کا اہتمام

گڑھی خدا بخش میں برسی کی سالانہ تقریب منسوخ کر دی گئیں

کراچی( تیز ترین ) پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کی 41 ویں برسی 4اپریل کو انتہائی سادگی سے منائی گئی۔ اس موقع پر ملک بھرمیں قران خوانی اوردعائیہ تقریبات کااہتمام کیاگیا۔ تاہم کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر گڑھی خدا بخش میں برسی کی سالانہ تقریب منسوخ کردی گئی۔ واضح رہے کہ 4 اپریل کو40 سال قبل ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ یہ سزا کیوں دی گئی یہ بات آج بھی بہت سارے لوگوں کے علم میں درست طور پر نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو نے کیلی فورنیا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کا آغاز 1958 میں کیا اور پاکستان کے پہلے آمر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں وزیر تجارت، وزیر اقلیتی امور، وزیر صنعت وقدرتی وسائل اور وزیر خارجہ کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ستمبر 1965میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپور انداز سے پیش کیا۔جنوری 1966میں جب صدر ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کئے تو ذوالفقار علی بھٹو بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں پاکستان کی سب سے بڑی مقبول ترین سیاسی جماعت بن کر ابھری۔  ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ عوامی انداز اپنایا اور عوامی جلسوں میں عوام کی زبان استعمال کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ملک کو سال 1977 میں پہلا متفقہ آئین ملا۔ ان ہی کے دور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کو آج بھی پیپلز پارٹی کی حکومت اور بھٹو کی بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔  پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا سہرا بھی ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت دی۔ پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت ختم ہونے کے بعد 1977کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سبب ملک میں حالات کشیدہ ہوئے۔ جس کے نتیجے میں 5جولائی 1977کو جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔ ملک میں ہونیوالے مظاہروں کے نتیجے میں قائدِ عوام کو دوبار نظر بند کرکے رہا کیا گیا، تاہم بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا اور 18 مارچ 1977کو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی اور یہ قتل کا مقدمہ اس وقت کے رکن قومی اسمبلی احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.