وزیراعظم کوبتا دیا ہے اپریل کےآخرتک کرونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوگی. ڈاکٹرعطاءالرحمان

پاکستان میں کورونا وباء تیزی سے پھیل رہی ہے. کیونکہ ٹیسٹنگ نہ ہونے کے برابر ہے. روزانہ بمشکل 5 ہزار تک ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جو کہ کم ازکم 50 ہزار ہونے چاہئیں۔ معروف سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمان کی گفتگو

لاہور(تیز ترین) معروف سائنسدان ڈاکٹرعطاء الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کوبتا دیا۔ اپریل کے آخر تک تعدادایک لاکھ سے زیادہ ہوگی۔  پاکستان میں کرونا وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔ کیونکہ ٹیسٹنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بمشکل روززنہ 5 ہزار تک ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ جو کم ازکم 50 ہزار ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو گفتگو کے دوران بتایا کہ کورونا سے متعلق ہمارے پاس ابھی تک جو اعدادوشمار آئے ہیں۔ ان کو دواطراف سے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہر دوسرے دن تعداد دوگنی ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت کل کیسز تین ہزار کے لگ بھگ اور 18 ہزار مشتبہ کیسز ہیں۔ اگر مشتبہ کیسز میں آدھے یا اس سے کم بھی کنفرم سمجھ لیں تو کل تعداد 10ہزار تک ہوگئی ہے۔ لیکن اگر ہر روز یہ دوگنے ہوتے جائیں 30 دنوں میں تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ابھی تک ہم کورونا  قابو نہیں کرپائے۔ دوسری طرف پاکستان میں اموات کی تعداد انتہائی کم ہے۔ کیسز کے حساب سے تعداد اتنی نہیں جتنی مغرب میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیسز کی تعداد پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ کیونکہ ٹیسٹنگ انتہائی کم ہے۔ ٹیسٹ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بمشکل روزانہ 5 ہزار تک مریض ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ہمیں روزانہ کم ازکم 50 ہزار ٹیسٹ کرنے چاہئیں۔  ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو بتا دیا ہے کہ میرے نزدیک اپریل کے آخر تک کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوگی۔ جبکہ وزیراعظم کو جو تعداد کے حوالے سے بتایا جارہا ہے، کہ 25ہزار یا 50 ہزار تک ہوگی، یہ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی آر مشین موجود ہیں۔ 150 پی سی آر مشینیں یونیورسٹیز کو دے دی جائیں تو ایک مشین آسانی سے روزانہ 400 ٹیسٹ کرتی ہے۔اس طرح ٹیسٹ کی استعداد بڑھ جائے گی۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.