سعودی عرب میں کرفیو میں نرمی، کچھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت

صحت‘ خوراک‘ نقل وحمل‘ توانائی‘ ذرائع ابلاغ‘ قانون نافذکرنے والے ادارے‘ ہوٹل انڈسٹری‘ ٹیلی کام وانٹرنیٹ آپریٹرز اور بین القوامی تنظیموں کے اہلکاروں پر کرفیو کی پابندیاں لاگو نہیں ہونگی. سعودی وزارت داخلہ

ریاض (تیز ترین)  سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کورونا کی وباء مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی شہروں میں کرفیو لگایا ہے۔ دوسری طرف کرفیو کے باوجود کچھ سرگرمیاں بدستور جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے.  سعودی نشریاتی ادارے کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے وضع کردہ قوانین کے مطابق دن بھر کے کرفیو کے باوجود بعض سرگرمیاں مخصوص اوقات میں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے نئے قوانین کے مطابق فوڈ سیکٹر جن میں کیٹرنگ، سپر مارکیٹ، سبزی اور مرغی کی دکانیں، گوشت، بیکری اور خوراک کا سامان تیار کرنے والی فیکٹریوں کو کام کی اجازت ہوگی. صحت سے وابستہ افراد، فارمیسی، میڈیکل کلینک، ڈسپنسری، ہسپتال، لیبارٹریز، دوا ساز فیکٹریاں اور طبی آلات تیار کرنے والے کار خانے مخصوص اوقات میں کارم جاری رکھیں گے مختلف ذرائع ابلاغ کو پیشہ وارانہ کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے. نقل و حمل کا شعبے میں سامان کی ترسیل ، پارسل، کسٹم کلیئرنس، گودام میں سامان کی آمدورفت، لاجسٹک خدمات، صحت کے شعبے، فوڈ سیکٹر اور بندرگاہوں پر محتاط انداز میں کام جاری رہے گا۔ ہوٹلوں اور رہائشی خدمات کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گیں۔ توانائی کے شعبے جیسے گیس اسٹیشنز اور بجلی کمپنی اور ہنگامی سروسز والے ادارے کام کریں گے. مالیاتی خدمات اور انشورنس کا شعبہ، شعبہ حادثات، فوری ہیلتھ انشورنس اور بیمہ سروسز کام جاری رکھیں گی۔ ٹیلی کام سیکٹر بطور انٹرنیٹ اور ٹیلی کام آپریٹرز کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ واٹرسپلائی کمپنی کو ہنگامی خدمات اور گھر میں پینے کے پانی کی فراہمی کی ذمہ دار کمپنیوں اور اداروں کو کرفیو کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے. اس کے علاوہ سیکیورٹی، فوجی اور صحت سے متعلق عملہ، سرکاری انتظامی سروسز کی گاڑیاں اور اوپر درج بالا سروسز سے متعلقہ افراد کی گاڑیاں مجاز حکام کی اجازت سے چلانے کی اجازت ہوگی۔  مکۃ المکرمہ کے سوا باقی پورے سعودی عرب میں 999 ٹول فری نمبر پر کال کر کے پابندی سے مستثنیٰ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب کہ مکہ مکرمہ میں اس بارے میں 911 پر رابطہ کیا جائے. کرفیو کے دوران مساجد کے مؤذن حضرات کو اذان دینے کے لیے مساجد جانے کی اجازت ہوگی۔ سفارتی مشنز ،بین الاقوامی تنظیموں اور سفارتی کوارٹر میں مقیم ایسے کارکنوں کو پابندی کی مدت کے دوران قریب اپنے مراکز اور دفاتر آنے جانے کی اجازت ہوگی.

Facebook Comments

POST A COMMENT.