کابل گوردوارہ حملہ میں پاکستان کو ملوث کرنا بھارت کی شرانگیزی ہے. پاکستان

اس گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے. ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (تیز ترین)  دفتر خارجہ نے کابل میں گوردوارے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھارتی میڈیا کی شرانگیزرپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے، کہ پاکستان گوروارے پر ہونے والے اس بدترین دہشت گرد حملے کی پہلے ہی سخت مذمت کرچکا ہے۔ مقدس مقامات کی حُرمت کا ہروقت احترام ضروری ہے۔ جبکہ اس گھناﺅنے جرم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے. ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جس نے دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اور اس لعنت بشمول سرحد پار سے ہونے والی ریاستی دہشت گردی کا پوری جدوجہد کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔  پاکستان سمجھتا ہے کہ دہشت گردی کی اس طرح کی مذموم کارروائیوں کا کوئی سیاسی، مذہبی یا اخلاقی جواز نہیں. یاد رہے کہ بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) نے ہفتے کو عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی کو گرفتار کیا ہے، جو حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے، اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاکستان کی پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے تعلقات تھے. انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ عبداللہ اورکزئی کے حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ سے بھی قریبی تعلقات تھے. ان الزامات پر پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم بھارتی ذرائع ابلاغ میں سرکاری طور پر متاثر ان رپورٹس کو جس میں 25 مارچ 2020 کو کابل میں گوردوارے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے شرانگیز اور قابل مذمت قرار دیا. دفترخارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان گوروارے پر ہونے والے اس بدترین دہشت گرد حملے کی پہلے ہی سخت مذمت کرچکا ہے، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقمات کی حرمت کا سب پر ہروقت احترام ضروری ہے، جبکہ اس گھناﺅنے جرم میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے. انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جس نے دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اور اس لعنت بشمول سرحد پار سے ہونے والی ریاستی دہشت گردی کا پوری جدوجہد کے ساتھ مقابلہ کیا ہے،  پاکستان سمجھتا ہے کہ دہشت گردی کی اس طرح کی مذموم کارروائیوں کا کوئی سیاسی، مذہبی یا اخلاقی جواز نہیں ہے. انہوں نے کہاں کہ جہاں تک بھارتی میڈیا میں آنے والی اطلاعات ہیں یہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے واضح طور پر ڈیزائن کی گئی ہیں، کیونکہ بھارت کی پاکستان کے خلاف بے بنیاد لزامات کی مہم سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس دہشت گرد حملے میں پاکستان کو جوڑنا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے اقوامِ عالم کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوششوں کا حصہ ہے. ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے بھارت کی اس طرح کی چالیں کامیاب نہیں ہوں گیں۔ یاد رہے کہ 25 مارچ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داعش کے جنگجو نے سکھ گوردوارہ پر حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں 25 عبادت گزار ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے تھے. مسلح شخص نے کئی عبادت گزاروں کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بھی بنائے رکھا تھا۔ جس کے بعد  افغانستان کی خصوصی فورسز نے بین الاقوامی افواج کی مدد سے عمارت کو خالی کرایا تھا۔ جس میں ایک کم عمر حملہ آور ہلاک ہوگیا تھا۔ حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ تاہم افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے سیکیورٹی فورسز پر گرینیڈ سے حملے کیے اور خودکار رائفل سے عوام پر گولیاں چلائیں۔ تاہم افغان فورسز گوردوارہ میں پھنسے کم از کم 80 افراد کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پاکستان نے کابل میں گردوارہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے گھناﺅنا جرم قرار دیا تھا. اپنے بیان میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان عبادت گاہ پر ہونے والے حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے پر اظہار مذمت کرتا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.