حکومت، قوم اور ادارے کورونا وائرس کی وباء سے نجات کے لئے جنگی بنیادوں پر مشترکہ کوششیں کررہے ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا لاہور میں اجلاس سے خطاب ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو اربوں روپے جاری کئے۔ 10 ہزار نئے ڈاکٹروں کی بھرتی کی منظوری دی گئی۔ مستحق خاندان کے لئے مالی تعاون 4 ہزار سے بڑھا کر 12ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب

لاہور (تیز ترین)  صدر مملکت  ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت، پوری قوم اور ادارے  کورونا  وائرس کی وباء سے نجات کے لئے جنگی بنیادوں پر مشترکہ کوششیں کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں سول سیکرٹریٹ کے دربار ہال میں ’’کووڈ۔ 19: روک تھام ، تخفیف اور کنٹرول‘‘ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزرا راجہ بشارت،  ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال اور فیاض الحسن چوہان،  پنجاب کے چیف سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان خان، آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر اور متعلقہ محکموں کے سکریٹری صاحبان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صدرِ مملکت کو محکمہ صحت سمیت مختلف محکموں کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ جس میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ، تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل، لاک ڈاؤن، سی ایم انصاف امداد پروگرام اور حکومت پنجاب کی جانب سے اب تک اٹھائے گئے دیگر تمام اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت پنجاب کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے ضرورت مند اور مستحق خاندانوں کو راشن کی فوری فراہمی اور مالی مدد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وباء کی وجہ سے لوگوں کے آمدنی کے ذرائع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صنعتی اکائیوں کے مالکان کو حکومتی ایس او پیز کا پابند بنایا جائے، تاکہ وہ اپنے مزدوروں کو کورونا وائرس کی وبا سے بچائیں، صنعتی مزدوروں کو شناختی پاس بھی جاری کیے جائیں، تاکہ ان کو دفعہ 144 کے دوران گھر سے صنعت اور صنعت سے گھر جاتے ہوئے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں متعدی بیماریوں کی روک تھام کیلئے کنٹرول آرڈیننس 2020 جاری کیا گیا ہے۔ اس لئے پہلے سے موجود دیگر تمام قوانین کو ضم کیا جانا چاہئے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے وینٹیلیٹرزکے ساتھ ساتھ ہائیڈرو ایکس کلوروکین کے مطالبہ کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ وزارت سائنس وٹیکنالوجی اور کچھ دیگر مقامی اداروں نے بھی وینٹیلیٹر تیار کرلئے ہیں، جو جانچ پڑتال کے عمل میں ہیں اور ان کی منظوری کے بعد ان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ہائیڈرو ایکس کلوروکین کے لئے ترکی سے رابطہ کیا ہے جیسے ہی یہ پاکستان پہنچے گی،  پنجاب کو بھی فراہم کردی جائے گی۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بیوروکریسی،  پولیس، محکمہ صحت، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس اور کورونا وبائی امراض کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے دیگر تمام اداروں کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے غریب خاندانوں کو جلد راشن کی فراہمی اور مالی مدد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صدر مملکت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے 13 جنوری 2020 کو محکمہ صحت کو 236 ملین روپے اور حال ہی میں 14 ملین روپے کی ایک اور گرانٹ جاری کی ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے نے بھی مجموعی طور پر 2.3 بلین روپے جاری کیے۔ کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو اربوں روپے جاری کئے۔ اسی طرح حکومت پنجاب نے بھی دس ہزار نئے ڈاکٹروں کی بھرتی کے لئے منظوری دی ہے، تاکہ خوفناک وائرس سے موثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مستحق خاندان کے لئے مالی تعاون 4000 روپے سے بڑھا کر 12000 روپے کردیا گیا ہے۔ جبکہ مستفید ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اجلاس کو بتایا کہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے۔ جبکہ جن مریضوں کا کوویڈ۔ 19 مثبت آیا ہے ان کو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بی ایس ایل تھری لیبارٹریز قائم کی جارہی ہیں۔ اگر صوبے کو ڈیجیٹل ایکسٹریکشن کٹس مہیا کی گئیں تو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں تین گنا اضافہ ہوگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آن لائن پلیٹ فارم اور کیبل ٹی وی کے ذریعے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے تعلیم گھر پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ فی الحال جماعت اول تا ہشتم تک کے طلبا کے لئے لیکچرز دیئے گئے۔ جن سے صوبہ بھر کے 54 ہزار سکولوں میں 12 ملین کے قریب طلباء نے استفادہ حاصل کیا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.