کرونا کے تیزی سے بڑھتے مریض، خطرہ ہے کہ مہینے کے آخر میں ہسپتالوں میں جگہ نہ کم پڑ جائے، وزیر اعظم کا اظہارِ تشویش

پاکستان کو کورونا وباء کے چیلنج کا سامنا ہے۔ احتیاط کر کے ہم بہت بڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں۔ میل جول سے بیماری تیزی سے پھیلے گی۔ ہر ملک میں کورونا بیماری کا پھیلاؤ مختلف ہے، عمران خان کی میڈیا سے گفتگو۔

اسلام آباد ( تیز ترین ) وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح بیماری پھیل رہی ہے، خطرہ ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں کہیں ہسپتالوں میں جگہ نہ کم پڑ جائے۔  پاکستان کو کورونا وباء جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہم بہت بڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں۔ زیادہ میل جول اور لوگوں کے اکھٹے ہونے سے بیماری تیزی سے پھیلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک میں کورونا  کی وباء کا پھیلاوً مختلف ہے۔  پاکستانی عوام سمجھتی ہے ہیں کہ یہ وباء اُن پر اثر نہیں کرے گی۔ کئی علاقوں میں لوگ احتیاط نہیں کررہے۔ کسی نوجوان کو بیماری لگی تو اس کے گھر میں موجود بزرگوں اور خاندان کے دیگر افراد کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ مریضوں کی تعداد بڑھی تو ہمارے پاس اتنے وینٹی لیٹرز نہیں ہیں کہ اُن کا علاج ہو سکے۔ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ لاک ڈاؤن اس وقت کامیاب ہوگا جب لوگوں کو گھروں پر کھانا اور بنیادی ضروریات دستیاب ہوں گی۔ وہ بدھ کو یہاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اسد عمر، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، معاونین خصوصی عثمان ڈار اور ثانیہ نشتر بھی موجود تھیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک صرف 40 لوگ فوت ہوئے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں، کہ شاید اس وباء کے مقابلے میں ہمارے پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یا شاید ہم پر یہ بیماری اثر نہیں کریگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح یہ وبا بڑھتی جا رہی ہے تو ہمیں خوف ہے کہ مہینے کے اختتام تک جن 4 یا 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑے گا ان کی تعداد اتنی ہو جائیگی کہ ہمارے ہسپتالوں میں آئی سی یو یا شدید بیمار مریضوں کیلئے جگہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم شدید بیمار لوگوں کا علاج کرنے سے قاصر ہوں گے۔ ہمارے ہسپتالوں میں اتنے وینٹی لیٹر نہیں ہوں گے اور ہم ان کا علاج نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم احتیاط کریں گے تو اگر بیماری کم شدت سے پھیلتی ہے تو ابھی ہمارے ہسپتالوں میں جگہیں ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ تین ہفتے پہلے ہم نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ہم نے اسکول، یونیورسٹیز کے بعد فیکٹریاں دکانیں وغیرہ بند کرادی تھیں تاہم  یورپ، امریکا اور چین میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے ہمارا لاک ڈاؤن مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً پانچ کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں لاک ڈاؤن کا  یورپ اور چین کی طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ کیونکہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ اگر ہم ان کی طرح لاک ڈاؤن کریں گے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جو روزانہ دیہاڑی کمانے والے ہیں، رکشا چلانے والے، چھابڑی والے، دکاندار وغیرہ پر لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ وہ سارا دن مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے توازن قائم رکھا جا سکے۔ لاک ڈاؤن بھی ہو اور بیماری بھی نہ پھیلے اور اس کمزور طبقے پر بھی بوجھ نہ پڑ جائے۔ یہی وجہ ہے تمام صوبوں اور وفاق کا ردعمل مختلف تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.