برطانیہ, لاک ڈاون کی موجودہ صورتحال کئی ماہ تک برقرار رہنے کی توقع۔

کرونا کی ویکسین کی دستیابی تک صورتحال زندگی معمول پر نہیں آسکے گی۔ برطانیہ

لندن ( تیز ترین )  برطانیہ نے لاک ڈاون کی موجودہ صورتحال میں مزید کئی ماہ تک توسع کا اشارہ دے دیا۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کی ویکسین کی دستیابی تک صورتحال زندگی معمول پر نہیں آسکے گی۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی حکام نے ملک میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لاک ڈاون کی موجودہ صورتحال کا دورانیہ طویل سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  برطانیہ  میں  کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے تک زندگی معمول پر نہیں آسکے گی۔ ویکسین کی تیاری میں ایک اندازے کے مطابق 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں برطانیہ میں لاک ڈاون میں کچھ نرمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم لاک ڈاون کا مکمل خاتمہ جلد ممکن نہیں ہو سکے گا۔

پابندیوں میں ترمیم کا فیصلہ برطانوی وزیراعظم کی ہسپتال سے واپسی کے بعد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ دیگر یورپی ممالک کی طرح برطانیہ بھی کرونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔  برطانیہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔  کرونا متاثرین کی تعداد 74 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی سطح پر کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ 7 ہزار سے زائد جبکہ مجموعی مریضوں کی تعداد 17 لاکھ سے زائد ہے۔ امریکا کرونا وائرس سے سب سے متاثر ہونے والا ملک ہے، جہاں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 5 لاکھ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ امریکا کے علاوہ اٹلی، اسپین، فرانس اور جرمنی  کورونا  وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔  دنیا کے بیشتر ممالک لاک ڈاون کے ذریعے اس مہلک وباؤ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن ہٹایا گیا۔  کورونا کی وباء تباہ کن حد تک دوبارہ نمودار ہوسکتی ہے۔ اس لیے تمام ممالک کو پابندیوں میں نرمی لانے کے بارے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.