مشیروں کو وفاقی وزراء کا درجہ دینے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

اسلام آباد ( تیز ترین ) سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اب تک حکومت کچھ خاص کام نہیں کر سکی۔ وزراء اور مشیروں کی فوج در فوج ہے، مگر کوئی کام ہوتا نہیں نظر آ رہا ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے حکومتی کار کر دگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس وقت ظفر مرزا کیا ہے اور اس کی صلاحیت کیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے. پوری دنیا میں پارلیمنٹ کام کررہی ہیں. عدالت کے سابقہ حکم میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب نہیں آئے، اور ظفر مرزا نے عدالتی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بارے میں تو پارلیمنٹ ہی طے کرے گی۔ حکومت قانون سازی کے مراحل میں ہے اور ایسا اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیار دیا گیا ہے۔ جسٹس گلزار نے مزید ریمارکس دئے کہ کابینہ کا حجم دیکھیں۔ 49 ارکان کی کیا ضرورت ہے۔ مشیر اور معاونین نے پوری کابینہ پر قبضہ کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صوبائی حکومتیں کچھ اور کررہی ہیں جبکہ وفاق کچھ اور کام کر رہا ہے۔ ہم آپ کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کررہے۔ جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کہاں گیا سماجی فاصلہ رکھنے پر کس حد تک عمل ہوا، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت اس پر کام کررہی ہے۔ 22 کروڑ آبادی کا ملک ہے۔ سماجی فاصلہ فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ممکن نہیں ہے ۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.