عمر اکمل کا جرم ثابت، 8 سے 10 ماہ پابندی کا فیصلہ متوقع۔

چیئرمین ڈسپلنری پینل جلد ہی متوقع فیصلہ سنائینگے۔ ذرائع

لاہور ( تیز ترین )  آرٹیکل 6.2 کے تحت آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی پر قومی کرکٹر عمر اکمل کا فکسرز سے رابطہ کی اطلاع نہ کرنے کا جرم ثابت ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے 29 سالہ عمر اکمل پر 8 سے 10 ماہ کیلئے ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔  پی سی بی نے عمر اکمل کا معاملہ چیئرمین ڈسپلنری پینل کے سپرد کر دیا تھا۔ ۔چیئرمین ڈسپلنری پینل نے عمر اکمل کے جواب پر نظر ثانی کے بعد فیصلہ محفوظ کیا ہے۔  پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر اکمل نے اینٹی کرپشن ٹربیونل کے سامنے  سماعت  کی درخواست نہیں کی۔ ڈسپلنری پینل کے چیئرمین لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان ایک دو روز میں متوقع فیصلہ سنائیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے20 فروری کو عمرا کمل کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرتے ہوئے کرکٹ سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ عمر اکمل کے بارے میں اس طرح کی شکایات پہلے بھی سامنے آئی ہیں، بلکہ ان کا کریئر اس طرح کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ عمر اکمل نے اپنا ڈیبو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا، جہاں انہوں نے سنچری سکور کی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم دورہ  آسٹریلیا پر گئی جہاں عمر اکمل کی پہلے دو میچوں میں کارکردگی مناسب رہی، لیکن پاکستان سیریز میں شکست کھا چکا تھا، جبکہ ان کے بڑے بھائی اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی انتہائی ناقص پرفارمنس پر انہیں آخری میچ کے لیے ڈراپ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بعد میں اپنا پانچواں میچ کھیلنے والے عمر اکمل نے مبینہ طور پر بھائی کے ڈراپ ہونے پر بطور احتجاج انجری کا بہانہ کیا اور کہا کہ وہ تیسرا میچ نہیں کھیلیں گے۔ حالانکہ انہوں نے وہ میچ تو کھیلا لیکن کرکٹ بورڈ نے ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ عمر اکمل کے کیرئیر کا یہ پہلا موقع تھا جب انھیں ڈسپلن کے حوالے سے سزا دی گئی تھی۔ انڈیا میں منعقدہ 2016ء کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوران جب سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستانی ٹیم کے ہوٹل جاکر تمام کھلاڑیوں سے ملاقات کی تھی تو عمراکمل نے حیران کن طور پر سب کے سامنے عمران خان سے یہ شکایت کردی کہ ٹیم منیجمنٹ انھیں بیٹنگ آرڈر میں اوپر کے نمبر پر نہیں کھلارہی ہے۔ ۔ورلڈ کپ کے بعد پاکستانی  کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے عمراکمل پر تنقید کی اور کہا تھا کہ نیوزی لینڈ  کےخلاف میچ میں انھوں نے باؤنڈری لگانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ جس کی ٹیم کو اشد ضرورت تھی۔ 2015ء میں ایک روزہ کرکٹ کے عالمی کپ کے بعد ہیڈ کوچ وقاریونس نے اپنی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دی جس میں انہوں نے عمراکمل اور احمد شہزاد کے مبینہ غیرسنجیدہ رویوں کے بارے میں منفی ریمارکس تحریر کیے تھے۔ وقاریونس نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ ایک عمراکمل کو قربان کر کے ہم ایسے دوسرے کھلاڑیوں کو تیار کرسکتے ہیں جو کہ صحیح معنوں میں پاکستان کا ستارہ سینے پر سجا کر ملک کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔ 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے عمراکمل کی فٹنس پر مکمل عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انھیں انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا تھا۔ دونوں کے درمیان اختلافات اس قدر شدید ہوگئے تھے کہ عمراکمل نے ایک پریس کانفرنس میں مکی آرتھر پر مبینہ طور پر نامناسب زبان میں استعمال کرنے کا الزام عائد کردیا، جس کی مکی آرتھر نے تردید کی۔  پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمراکمل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ عمراکمل پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے لیکن اگلے دو ایونٹس میں وہ بری طرح ناکام رہے۔ اس کا انہیں یہ نقصان ہوا کہ لاہور قلندر نے انہیں تیسری پی ایس ایل کے دوران نہ صرف آخری پانچ میچوں کی ٹیم سے ڈراپ کیا بلکہ انہیں بنچ پر بھی نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ لاہور قلندر کی انتظامیہ نے اگرچہ اس بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے رکھا لیکن کپتان برینڈن میکولم نے عمراکمل کو ایک پیچیدہ شخص قرار دے دیا اور کہا کہ ان میں ٹیلنٹ ضرور ہے لیکن ان کے ساتھ مسائل بھی بہت ہیں۔ عمراکمل نے دو سال قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ دعوی کیا کہ انھیں 2015ء کے عالمی کپ میں بھارت کیخلاف میچ سے قبل سپاٹ فکسنگ میں شریک ہونے کی پیشکش ہوئی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے اس دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں اپنے اینٹی  کرپشن  یونٹ کے سامنے پیش ہونے کیلیے کہا ۔ آئی سی سی نے بھی اس بارے میں اپنی تحقیقات شروع کردی تھیں جو ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ عمراکمل نے گزشتہ سال کینیڈا میں ہونے والی لیگ کے موقع پر اسی طرح کا دعوی کردیا اور اس بار انھوں نے سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرمنصور اختر کا نام لیا تھا جسکے بعدآئی سی سی کے انٹی  کرپشن یونٹ نے منصور اختر سے پوچھ گچھ کی تھی۔ گزشتہ سال ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں عمراکمل کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ اچھی کارکردگی دکھاکر ورلڈ کپ کی ٹیم میں آجائیں، لیکن سیریز کے دوران رات گئے ٹیم ہوٹل سے باہر رہ کر کرفیو ٹائمنگ کی خلاف ورزی کرنے کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑا۔ اس سیریز میں بھی ان کی بیٹنگ کارکردگی بھی مایوس کن رہی اور وہ ورلڈ کپ کھیلنے سے محروم رہ گئے۔ عمراکمل کو نومبر 2015 ءمیں حیدرآباد میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران  پولیس  حراست میں لے کر تھانے لی گئی تھی، تاہم بعدازاں انہیں اس واقعے میں کلیئر کردیا گیا تھا۔ ۔چند ماہ بعد اپریل 2016ء میں عمراکمل فیصل آباد میں ایک سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے دوران تھیٹر کی انتظامیہ سے جھگڑے کے سبب شہ سرخیوں میں آئے تھے۔ اگرچہ انہوں نے کسی جھگڑے سے انکار کیا تھا، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بارے میں تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمراکمل دو مرتبہ لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک وارڈن سے الجھ چکے ہیں۔ پہلا واقع فروری 2014ء میں پیش آیا جب ٹریفک وارڈن کے ساتھ نامناسب گفتگو کرنے پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی، اور انہیں پولیس سٹیشن لے جایا گیا تھا۔ مارچ 2017ء میں دوسرے واقعے میں ان پر اپنی گاڑی پر فینسی نمبر پلیٹ لگانے کا الزام لگا تھا۔ ۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2016ء کی قائداعظم ٹرافی کے موقع پر عمراکمل کو ایک میچ کے لیے معطل کیا، کیونکہ انہوں نے پی سی بی کے کھیلوں کا سامان اور کپڑوں کے استعمال کے بارے میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔ پی سی بی کے مطابق انہوں نے میچ کے دوران ایک ایسا ٹراؤزر پہنا تھا جس پر ایک غیرمنظور شدہ برانڈ کا لوگو نمایاں تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.