کورونا کا وار 1930 کی کساد بازاری سے بھی خطرناک ہوگا۔ آئی ایم ایف

عالمی معیشت کے 3 فی صد تک سکڑنے کا امکان ہے۔ عالمی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 9 ٹریلین ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ

واشنگٹن ( تیز ترین ) عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ 1930 کے” گریٹ ڈیپریشن“ کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کے لیے یہ سال بد ترین ثابت ہو گا۔ انٹرنیشنل مانٹیری فنڈ کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کے 3 فی صد تک سکڑنے کا امکان ہے جو کہ 2009ء کی کساد بازاری صفر اعشاریہ ایک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے پہلے توقع کی جا رہی تھی کہ 2021ء میں عالمی معیشت کی شرح نمو 5 اعشاریہ 8 ہوگا ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ سال معیشت کے دوبارہ بحال ہونے کے امکانات بے یقینی کا شکار ہیں۔ وائرس کی وجہ سے عوامی صحت اور عالمی شرح نمو کو پہنچنے والے نقصانات سے پہلے آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی تھی کہ اس سال عالمی شرح نمو 3 اعشاریہ 3 فی صد ہوگی، لیکن عالمی وبا کے پھیلاﺅ کو قابو میں رکھنے کے لیے لاک ڈاﺅن، کاروباری اداروں کا بند ہونا، سماجی دوری، اور سفری پابندیوں جیسے اقدامات کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں معاشی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جورجیوا نے متنبہ کیا تھا کہ دنیا کو 1930 کی دہائی کی کساد بازاری (گریٹ ڈیپریشن) کے بعد امسال بد ترین کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور زیادہ تر ایشیاء کی ابھرتی ہوئی منڈیاں بد ترین اور کم آمدن والے ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے پیر کے دن  آئی ایم ایف نے 25 غریب ممالک کے ذمہ واجب الادا پانچ سو ملین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں چھہ ماہ کی توسیع کی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.