بھارتی صحافی نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے پر ہندو انتہا پسندوں کو آئینہ دکھا دیا۔

انہوں نے ہندو انتہا پسندوں سے سوال کیا کہ کیا وہ جانتے ہیں بھارت میں کورونا کی دوائی بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کے مالک مسلمان ہیں۔ 50 ہزار حفاظتی کٹس بنانے والے شاہ رخ بھی ایک مسلمان ہیں۔ صبا نقوی

لاہور ( تیز ترین ) بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ نسلی امتیاز کے واقعات تو عام ہیں۔تاہم کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں پیداشدہ مشکل صورتحال اور لاک ڈاؤن میں بھی بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جانے لگا ہے۔ بھارت کے اسپتالوں میں بھی ہندو اور مسلمان مریضوں میں فرق کیا جاتا ہے۔ ۔گجرات کے شہر احمد آباد میں کورونا کے مسلمان اور ہندو مریضوں کے لئے الگ الگ وارڈ قائم کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے اسپتال کے میڈیکل سپریڈنٹ کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کا حکم گجرات کی سرکار نے دیا تھا۔ بھارت  کے اندر مسلمانوں کے ساتھ اس امتیازی سلوک کا پردہ بھارتی صحافی صبا نقوی نے چاک کیا۔ صبا نقوی نے بھارت میں کورونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والوں کو بھی آئینہ دکھا دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں سے بھارت کے مختلف علاقوں سے انتہائی پریشان کن خبریں آرہی ہیں۔ مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سبزی فروشوں کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ بھارت میں انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے ساتھ نفرت انگیز سلوک کر رہے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ بھارت میں کرونا کی وبا سے لڑنے والوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ صبا نقوی نے بتایا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی دوائی بنانے کی کوشش کرنے والے  کمپنی  کے مالک بھی مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سب سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے کہ بھارت میں کونسی فارما سوٹیکل کمپنی کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے دوائی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کمپنی ’’سپلا‘‘ ہے۔ اس کمپنی کے مالک کا نام یوسف خواجہ حمید ہے جو کہ ایک مسلمان سائنسدان اور کاروباری شخصیت ہیں۔ صبا نقوی نے کہا کے میں تمام نفرت کرنے والوں کو یہ چیلنج دے رہی ہوں کہ کیا آپ جانتے ہیں کورونا سے لڑنے کے لیے سب سے زیادہ چندہ کس نے دیا۔ا نہوں نے شاہ رخ خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور بھارت کے بڑے سپر سٹارز میں سے ایک ہیں۔ 50000 حفاظتی کٹس شاہ رخ خان کی فاؤنڈیشن کی جانب سے تیار کی جارہی ہیں اور وہ لوگوں کو کھانا بھی فراہم کر رہے ہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.