ماسک لگانے سے طبی عملے کے چہروں پر زخموں کے نشانات ثبت۔

دنیا بھر میں پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس کےخاتمے کے لیے مختلف ممالک کے سائنسدان تاحال ویکسین بنانے کے لیےکوشش کر رہے ہیں۔ جان لیوا وائرس سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہم حفاظتی لباس، دستانے اور ماسک کا استعمال کریں۔

اسلام آباد ( تیز ترین ) عالمی وباء سے فرنٹ لائن پر لڑنے والا طبی عملہ دن رات ماسک، دستانے اور حفاظتی لباس پہن کر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اس تناطر میں متعدد ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سےسوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کی گئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کے چہروں پر مسلسل ماسک لگانے کی وجہ سے زخموں کے نشانات ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان ڈاکٹرز اور طبی عملے کو دنیا بھر کے صارفین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کی جانیں بچا رہے ہیں۔

120..

اٹلی کے سول اسپتال کے آئی سی یو میں کرونا کے مریضوں کے علاج کرنے والی ڈاکٹر نکولہ اسگربی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں ان کے چہرے پپر مسلسل ماسک لگانے کی وجہ سے زخم کے نشانات ہیں۔ ڈاکٹر نے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے تصاویر کھینچنے کا زیادہ شوق تو نہیں لیکن یہ تصویر میں نے اس لیے کھینچی ہے کہ جب میری بیٹی بڑی

120...

ہوجائے گی تو میں اُسے اُس وقت یہ تصویر دکھا سکوں۔
۔چین کی ایلیسیا بوناری نامی ڈاکٹر نے بھی سوشل میڈیا پر ایک تصویر شئیر کی جس میں ماسک لگانے کی وجہ سے ان کے چہرے پر زخموں کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں۔

images 1 2

ووہان کے ایک ہسپتال کی میڈیکل اسٹاف ممبر لیولی کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک تصویر دی گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلسل ماسک کے استمعال کی وجہ سے ان کے چہرے پر زخموں کے نشانات ہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.