شہباز شریف سے22 اپریل کو ٹی وی کیمرہ کے سامنے تفتیش کی جائے۔ شاہد خاقان عباسی

عوام کو پتہ چلے کہ نیب کیا سوال پوچھتا ہے۔ عمران خان، چیئرمین نیب، شہزاد اکبر اور باقی چمچے بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات بتائیں۔ نیب کو چینی اور آٹے کا اسکینڈل نظرنہیں آتا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس۔

اسلام آباد ( تیز ترین )  مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 22 اپریل کو شہباز شریف سے کیمرہ کے سامنے تفتیش کی جائے، تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ نیب ان سے کیا سوال پوچھتا ہے۔ عمران خان، چیئرمین نیب، شہزاد اکبر اور باقی چمچے بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات بتائیں، نیب کیوں شہباز شریف کو گرفتار کرے گا۔ نیب کو چینی اور آٹے کا اسکینڈل کیوں نظر نہیں آتا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت کا کام ہے عوام کی بھوک اور روزگار کے مسائل کو حل کرے۔ جب تک وباء ختم نہیں ہوجاتی۔
 دنیا کے دوسرے ممالک میں دیکھ لیں، ہمارے ہاں زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لیے پاکستان میں وباء کا چیلنج اس طرح نہیں ہے۔ لیکن صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ حکومت کورونا وائرس کے چیلنج میں بالکل ناکام ہورہی ہے ، میڈیا کو دبا رہے ہیں اور پھر میڈیا کے ذریعے سیاستدانوں کی بدنامی کی جارہی ہے۔ شہبازشریف اگر وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے توتو وباء اور خوراک کے مسائل کا سامنا کرنے کا ان کے اندازمیں واضح فرق نظر آنا تھا۔ شہبازشریف کو نیب نے طلب کیا ہے، شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنی تمام دستاویزات دے چکا ہوں اور کینسر کا مریض ہوں اور بہتر یہی ہے کہ میں قرنطینہ میں رہوں، لیکن اس کے باوجود نیب نے22 اپریل کو طلب کیا ہے۔ نیب کوایسی بھی کیا جلدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 5اکتوبر 2018ء کو  شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں گرفتار کیا تھا۔ آشیانہ کیس بنانے کی کوشش کی گئی، بعد میں گندے نالے کیس میں ملوث کیا، آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس بنایا۔ لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو ضمانت دی۔ 132 دن شہباز شریف نیب کی حراست میں رہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ شہباز شریف پر کوئی بددیانتی کا کیس نہیں ہے۔ شہباز شریف نے ہمیشہ کہا کہ ان پر کوئی ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت کرے۔ ایک شہزاد اکبر جو پتا نہیں کس ملک سے آئے ہیں، انہوں نے بیان دیا کہ 56 کمپنیاں بنائی گئیں۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو نیب کی حراست میں 90 دن گزر چکے لیکن ابھی تک معلوم نہیں کہ کیس کیا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.