‎چینی انکوائری کمیشن کی حتمی رپورٹ نہ آنا عمران نیازی کا اعترافِ جرم ہے۔ شہباز شریف

رپورٹ میں 100 ارب کے ڈاکے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاخیر چینی ڈکیتی کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش ہے۔ رپورٹ میں تاخیر سے عوام سے حقائق نہیں چھپائے جا سکتے۔ اپوزیشن لیڈر

لاہور ( تیز ترین ) مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں دوہفتے کی تاخیر ملی بھگت کا نتیجہ قراردیا۔  ان کا کہنا تھا کہ چینی انکوائری کمیشن کی حتمی رپورٹ نہ آنا عمران خان کا اعترافِ جرم ہے۔ رپورٹ میں تاخیر سے 100 ارب کے ڈاکے کی تصدیق ہوئی ‎تاخیر چینی ڈکیتی کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ عوام جانتی ہے کہ ان کے آٹے چینی پر ڈاکہ کس نے ڈالا۔ یہ سب عمران خان اور عثمان بزدار کی گٹھ جوڑ سے ہو رہا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ چینی بحران کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ جمع کرانے کے لئے مزید تین ہفتے کا وقت مانگ لیا ہے۔ ہفتے کے دن اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ چینی کے بحران سے متعلق فرانزک کمیشن کی رپورٹ آج جمع کرائی جانی تھی، تاہم متعلقہ کمیشن نے وفاقی حکومت سے رپورٹ جمع کرانے کی مدت میں مزید تین ہفتے کی توسیع کی درخواست کی ہے۔ وفاقی کابینہ منگل کو اس درخواست پر غور کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر چینی اور گندم کے بحران کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس 4 اپریل کو جاری کی گئی تھیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.