سوئیڈن میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی ساجد حسین کی موت کی تصدیق

سوئیڈن کے شہر اپسالا سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی ساجد حسین کی لاش دریائے فائرس کے کنارے ملی ہے۔

سٹاک ہوم ( تیز ترین ) سویڈن پولیس ترجمان کے مطابق 2 مارچ کو لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی ساجد حسین کی لاش 23 اپریل کو دریائے فارس کنارے ملی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے کسی حد تک یہ شک دور ہوگیا ہے کہ ساجد حسین کسی جرم کا نشانہ بنے، جبکہ اُن کی موت خود کشی یا حادثے کا نتیجہ ہونے کے امکان کو رد کرنا بھی قبل از وقت ہے۔
ساجد حسین 2017 میں سوئیڈن آئے تھے اور انہیں 2019 میں سیاسی پناہ دی گئی تھی۔ وہ اپسالا میں پارٹ ٹائم پروفیسر کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔ ساجد حسین کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا اور وہ آن لائن میگزین ’بلوچستان ٹائمز‘ کے چیف ایڈیٹر بھی تھے، جہاں وہ منشیات اور دیگر مسائل پر لکھتے رہتے تھے۔ عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے سوئیڈن کے سربراہ ایرک ہلکجیر کا کہنا ہے کہ ساجد حسین کو آخری بار اسٹاک ہوم سے اپسالا کیلئے ٹرین میں سوار ہوتے دیکھا گیا تھا۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے صحافی ساجد حسین کی موت کی مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ قتل قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں (پی ایف یو جے) کے عہدیداروں نے سوئیڈش حکومت پر زور دیا ہے کہ ساجد حسین کی موت کی فوری تحقیقات کی جائیں۔ ساجد حسین پاکستان میں دی نیوز اور ڈیلی ٹائمز میں کام کرچکے ہیں۔ وہ اپسالا میں کرینہ جہانی کے ساتھ بلوچی ٹرانسلیشن ڈکشنری پر کام کررہے تھے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.