ملک میں کرونا وباء کا زیادہ شور مچایا جا رہا ہے۔ اسد عمر

پاکستان کے لئے کرونا کی وجہ سے لگائی گئی معاشی بندشیں زیادہ مہلک ہیں۔ لاک ڈاؤن نرم یا ختم کرنے کا فیصلہ 9 مئی سے پہلے کرلیں گے۔ وفاقی وزیر اسد عمر

اسلام آباد ( تیز ترین ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرکا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا اتنا زیادہ نہیں جتنا زیادہ شورمچایا جا رہا ہے۔ ملک کے لئے کرونا کی سجہ سے کی جانے والی معاشی بندشیں زیادہ مہلک ہیں۔ کورونا وائرس سے 10لاکھ آبادی میں اموات کی شرح صرف 2 فیصد ہے۔ جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر 4 افراد میں ایک شخص بھوک سے متاثر ہورہا ہے۔ مزید لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ 9 مئی سے پہلے کرلیں گے۔
انہوں نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اعلی سطحی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ آج ہم کورونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال، عالمی سطح پر صورتحال اور اب تک ہونے والے فیصلوں کا موازانہ عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ ملک کے اندر کورونا سے مارچ کے وسط سے ایک یا دو‘ اپریل کے پہلے عشرے میں 4,5 اموات، دوسے عشرے میں 15 سے 17 جبکہ پچھلے 6 دن سے یومیہ کی بنیاد پر 24 اموات ہورہی ہیں۔
اگر یہ ہی شرح چلتی رہی تو ایک مہینے میں یہ اموات 720تک ہوسکتی ہیں جبکہ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں ماہانہ 4 ہزار 838 اموات ہوتیں ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی ٹریفک کو سڑکوں پر آنے سے نہیں روکا۔ اسی طرح اس کورونا وائرس کے اثرات کو روکنے کے لئے بندشیں ہمیشہ نہیں چل سکتیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ دنیا میں کورونا وائرس کے 100مصدقہ مریضوں اور 46 دن کے اعداد و شمار سے عالمی سطح پر ایک تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے مطابق پہلے 46 دنوں میں اسپین میں 414،  اٹلی میں 305،  فرانس میں 256، برطانیہ میں 248، امریکہ میں 116،  پاکستان میں 2، اور بھارت میں اب تک 10لاکھ افراد میں سے ایک موت واقع ہوئی ہے۔
آبادی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکہ میں 58گنا،  برطانیہ میں 124 گنا اور اسپین میں 207 گنا ذیادہ اموات ہوئیں ہیں۔ جبکہ پاکستان میں کورونا وائرس اتنا مہلک ثابت نہیں ہوا جتنا دنیا میں اس سے جانی نقصانات ہوئےہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.