عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کی مخالفت

پاکستان میں وائرس موجود ہے، لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تو وائرس خطرناک حد تک پھیلنے کا ڈر ہے۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ اور ذیلی اداروں کا مشترکہ اجلاس

اسلام آباد ( تیز ترین ) عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کی مخالفت کردی۔  پاکستان میں وائرس ختم نہیں ہوا، لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تو وائرس خطرناک حد تک بڑھنے کا خطرہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں اقوام متحدہ اور ذیلی اداروں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔  جس  میں  کورونا  وائرس کی صورتحال اور حکومت پاکستان کی جانب سے لاک ڈاون میں نرمی کا جائزہ لیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وائرس ختم نہیں ہوا۔ جبکہ پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کی صورت میں وائرس تیزی سے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔ مزید برآں نیویارک میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر کو بھی خبردارکیا ہے کہ مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کی خاتمے میں جلدی انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے ایک بریفنگ میں کہا کہ وہ ممالک جو کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاون میں ہیں، انہیں اس کے خاتمے سے پہلے 6 نکات کا لازماََ خیال رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے یہ یقینی ہونا چاہیے کہ کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا چکا ہے۔ ٹیڈروس نے کہا کہ حکومتوں کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے قبل مشتبہ مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈز، ٹیسٹ اور علاج کی مؤثر سہولتیں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ نرسنگ ہوم اورعلاج معالجے کی جگہوں پر کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتظامات کر لیے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے سے قبل کام کی جگہوں، سکولوں اور دیگرعوامی مقامات پر مکمل احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے حکومتوں کو ہدایت کی کہ یہ بھی دیکھیں کہ کورونا وائرس کی باہر سے منتقلی کو روکنے کا بندوبست کیا جا چکا ہو۔ ٹیڈ روس نےمزید کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کورونا وائرس سے متعلق کمیونٹی کی سطح پر لوگوں کو مکمل آگاہی اور شعور دیا جا چکا ہو۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.