عالمی ادارہ صحت نے حکومت پاکستان سے معاہدہ کیا ہوا ہے کہ کورونا سے مرنے والےہر بندے کے بدلے 3000 ڈالر دیں گے۔ نبیل گبول

لاک ڈاؤن ختم کر کے، کورونا کے مریض بڑھا کر آئی ایم ایف سے فنڈ لینے کا معاملہ ہے یا قرضے معاف کروانے کا معاملہ ہے؟ رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کا سوال

اسلام آباد ( تیز ترین ) رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نبیل گبول نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے حکومت  پاکستان سے معاہدہ کیا ہے کہ کورونا سے ہر بندے کے مرنے پر 3 ہزار ڈالر دیں گے۔
نبیل گبول نے کہا ہے کہ حکومت نے ایسے وقت میں لاک ڈاؤن ختم کیا ہے جب اس ماہ کے آخر تک 2 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا لاک ڈاؤن ختم کر کے،  کورونا مریض بڑھا

کر آئی ایم ایف سے فنڈ لینے کا معاملہ ہے یا قرضے معاف کروانے کا معاملہ ہے۔
نبیل گبول نے کہا کہ اگر باہر سڑکوں پر نکلیں تو آپ دیکھیں گے کہ آج پورے کراچی کا ٹریفک جام تھا ایسے کورونا پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان  مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے بھی کہا ہے کہ  پاکستان  میں  کورونا پھلاؤ کے انتہا کے وقت لاک ڈاؤن ختم کیا گیا ہے ۔ وزیراعظم نے بھی کہا تھا کہ مئی میں وباء کی شدت ہوگی۔ موجودہ صورت حال حکومت کی 2 ماہ کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ حکومت نے ہرموقعے پر گومگوں کی کیفیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف طبی معالجین کی تجویز پر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ پاکستان میں جیسے کورونا کی وباء بڑھتی گئی۔ ہم لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے چلے گئے۔ جبکہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ مئی میں یہ وباء شدت اختیار کرے گی ، لیکن جب مئی آیا تو ہم نے لاک ڈاؤن ختم کردیا۔ یہ گومگوں کی پالیسی اپنائی گئی۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.