کرونا سے گردے فیل ہوجانا زیادہ جان لیوا قرار

گردے فیل ہونے والے مریضوں میں کرونا کے نتیجے میں اموات کی شرح 50 فیصد ہے۔ تحقیق

واشنگٹن ( تیز ترین ) میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا متاثرین میں گردے فیل ہونا زیادہ جان لیوا ہوتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اکیوٹ کڈنی فیلیئر یا “اے کے آئی” کرونا کی ایک سنگین پیچیدگی ہے، جس پرزیادہ توجہ نہیں گئی اور اچھی طرح سمجھا بھی نہیں گیا۔ تحقیق کے مطابق گردے فیل ہونے کا سامنا کرنے والے مریضوں میں کرونا کے نتیجے میں اموات کی شرح 50 فیصد ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں خصوصاً آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں میں “اے کے آئی” کا خطرہ ہوتا ہے۔ درحقیقت 25 سے 30 فیصد مریضوں میں اس کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے چین میں حال ہی میں ہونے والی 2 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا جس میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریضوں کے گردوں کے نمونوں کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی میں شائع ہوئے اور پہلی بار اس ممکنہ میکنزم پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح گردے فیل ہونے کا مسئلہ کرونا کے مریضوں کو شکار کرسکتا ہے۔ جریدے میں کہا گیا کہ نئے نتائج سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ کرونا کے مریضوں کے گردوں پر توجہ بڑھائیں اور گردوں کے افعال اور ساخت کے حوالے سے مناسب معلومات جمع کرتے رہا کریں کہ کس طرح “اے کے آئی” ان مریضوں میں نمودار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میکنزم کو زیادہ بہتر سمجھنے سے موثر علاج کی تشکیل میں مدد مل سکے گی۔ خاص طور پر آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کے لیے یہ بہت اہم ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر مریضوں کو ڈائیلاسز کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل اپریل میں چینی سائنسدانوں کی جریدے جرنل کڈننی انٹرنیشنل میں شائع تحقیق میں  کرونا سے  ہلاک ہونے والے افراد کا بعد از مرگ پوسٹمارٹم کیا گیا اور 26 میں سے 9 میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.