بھارت اور بنگلہ دیش میں سمندری طوفان ’امفھان‘ کا خطرہ

لاکھوں افراد کی عارضی پناہ گاہوں کی تیاری اور منتقلی کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔

کولکتہ ( تیز ترین ) بھارت اور بنگلہ دیش میں سمندری طوفان ’امفھان‘ کی آمد کے پیش نظر ساحلی علاقوں سے لاکھوں افراد کے لئے عارضی پناہ گاہوں کی تیاری اور منتقلی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’امفھان‘ میں ہواؤں کی رفتار اس وقت 240 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘امفھال’ بدھ کو بھارت کی مشرقی ریاستوں اور بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلوں سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس کی ہواؤں کی رفتار ٹکرانے کے وقت کم ہو کر 175 کلو میٹر فی گھنٹہ تک آنے کے نتیجے میں یہ کیٹگری 6 کا طوفان بنے گا۔  بنگلہ دیش کے ڈیزازسٹر منیجمنٹ سیکریٹری شاہ کمال نے کہا ہے کہ انہوں نے پانچ لاکھ افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں کے طور 12ہزار سے زیادہ شیلٹرز تیار کر لیے ہین جن میں 7ہزار کے قریب سکول اور کالج شامل ہیں، جبکہ اس کے ساتھ کورونا وباء کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ عارضی پناہ گاہوں میں افراد کو ماسک اور دستانے پہننے کا پابند بنایا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق یہ طوفان نومبر 2007 میں آنے والے سمندری طوفان ‘سیدر’ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جب 3000 سے زیادہ افراد طوفان کی نظر ہوگئے تھے۔ بھارت کے ریاست مغربی بنگال کے ساحلی علاقوں سے دو لاکھ افراد عارضی نقل مکانی کر سکتے ہیں جبکہ اڑیسہ سے ایک لاکھ دس افراد کو شیلٹرز کی جانب منتقل کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.