ایٹمی دھماکوں سے متعلق شیخ رشید کے بیان کی راجہ ظفر الحق کی جانب سے تردید

ان کا کہنا ہے کہ 1998 میں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے اور دھماکوں کا کریڈٹ اس وقت کے وزیراعظم کے سوا کسی اور کو نہیں مل سکتا۔ حامد میر کا کالم

لاہور( تیز ترین ) چیئرمین پاکستان مسلم لیگ (ن) راجہ ظفر الحق نے شیخ رشید احمد کے اس دعوے کی فوری تردید کر دی ہے۔ جس میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ ایٹمی دھماکے شیخ رشید، راجہ ظفر الحق اور گوہر ایوب نے کرائے تھے۔
اس حوالے سے لکھتے ہوئے اپنے کالم میں سنیئر تجزیہ نگار حامد میرنے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ 1998 میں نواز شریف  پاکستان کے وزیراعظم تھے اور دھماکوں کا کریڈٹ اس وقت کے  وزیراعظم کے سوا کسی اور کو نہیں مل سکتا۔ حامد میر نے اپنے کالم میں مزید لکھا ہے کہ وفاقی وزیر شیخ رشید کے بیان کے بعد بہت سے لوگوں نے مجھ سےسوال کیا ہے کہ ایٹمی دھماکے کس نے کئے تھے؟ حامد میر کا کہنا تھا کہ مجھے یہ سوال بہت احمقانہ لگتا ہے کیونکہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکا کیا تو وزیراعظم  نواز شریف تھے اور تاریخ میں یہی لکھا جائیگا کہ پاکستان نواز شریف کے دور میں ایٹمی قوت بنا۔ اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ بات کہنا غلط ہو گا کہ نوازشریف نے ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کی تھی، کیونکہ جب بھارت نے دھماکا کیا تو وزیراعظم نواز شریف قازقستان کے شہر الماتے میں تھے۔ انہوں نے وہاں سے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو فون کیا اور کہا کہ آپ ایٹمی دھماکوں کی تیاری کریں۔ کچھ دن قبل یوم تکبیر کے موقع پر شیخ رشید کی جانب سے بیان دیا گیا تھا جس کے بعد ہر طرف ہلچل مچ گئی تھی۔ وفاقی وزیر نے بیان دیا تھا کہ نواز شریف 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے حامی نہیں تھے، ان دھماکوں کی حمایت اس وقت کی کابینہ میں سے راجہ ظفر الحق اور گوہر ایوب خان کر رہے تھے یا میں کر رہا تھا۔ شیخ رشید کے اس بیان کے بعد نوازشریف کے حامیوں کی جانب سے وفاقی وزیر پر تنقید کی جا رہی تھی، جبکہ دوسری جانب حکومتی مخالف لوگوں کی جانب سے وفاقی وزیر کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ہر طرف یہی بحث دیکھنے کو مل رہی تھی کہ 1998 میں ایٹمی دھماکے کس نے کئے۔ تاہم اب چیئرمین مسلم لیگ (ن) راجہ ظفر الحق نے شیخ رشید کے اس بیان کی تردید کر دی ہے، جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ 1998ءمیں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے اور دھماکوں کا کریڈٹ اس وقت کے وزیراعظم کے سوا کسی اور کو نہیں مل سکتا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.