جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا نےسپریم کورٹ میں بیان ریکارڈ کروا دیا۔

پراپرٹی کی قیمت اور خریدوفروخت کی منی ٹریل بھی دے دی گئیں۔ میں پیدائشی طور پر اسپینش ہوں۔ تینوں جائیدادوں کا پاکستان اور بیرون ملک ٹیکس ادا کرتی ہوں۔ فائز عیسیٰ کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا کا ویڈیو بیان

اسلام آباد ( تیز ترین ) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔ سرینا عیسیٰ نے عدالت کو اپنی پراپرٹی کی خریدوفروخت اور قیمت کی تفصیلات بھی بتا دیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پیدائشی طور پر اسپینش ہوں۔  پاکستان اور بیرون ملک دونوں جگہ پر ٹیکس ادا کرتی ہوں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا نے عدالت کو اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرایا۔ انہیوں نے بتایا کہ میں پیدائشی طور پر اسپینش ہوں۔ میری والدہ کا نام کریرا تھا۔ والد کا نام کھوسو ہے، لہذا میرے برتھ سرٹیفکیٹ پر نام سرینا کریراکھوسوہے۔ اسی نام سے  میرا پاسپورٹ ہے۔ جب پاکستان میں 1983ء میں میری شادی ہوئی۔ اس کے بعد حکومت پاکستان کے شناختی کارڈ میں میرا نام سرینا عیسیٰ ہے۔ میرے پاس اسپینشن پاسپورٹ ہے۔ جب میرے شوہر وکیل تھے تو پانچ سال کا ویزہ دیا جاتا تھا۔ لیکن 2018ء میں ہراساں کرنے کیلئے ایک سال کا ویزہ دیا گیا۔ جبکہ میرے والد اس وقت بیمار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی امریکن سکول میں پڑھاتی رہی ہوں۔ تمام ٹیکس ریٹرنز ریحان نقوی کے نام پر جاری کرتی رہی ہوں۔ میرا کلفٹن میں ایک گھر اور شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک پلاٹ بھی تھا۔ اسی طرح میرے والد کے نام پر جو زرعی زمین فراہم کی گئی وہ ان کے نام کے سے ہے۔ ان تمام جائیدادوں کے خسرہ نمبرڈیرہ مراد جمالی ، نصیرآباد میں زرعی زمین کا خسرہ نمبرعدالت کو بتائے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ زرعی اراضی پر انکم ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ یہ ہمارا قانون ہے۔ میں نے اب تک جتنی ٹیکس ریٹرنز داخل کی ہیں، وہ ریحان نقوی کی ایڈوائس پر جمع کروائی ہیں، لیکن جب مجھے معلوم ہو اکہ پاکستان میں قانون تبدیل ہوگیا ہے تو پھر انہوں نے اس کے قانون کے مطابق ٹیکس ریٹرنز جمع کروائے۔ آخری ٹیکس ریٹرن 76 لاکھ سے زائد ہے، جو میری پراپرٹی کراچی کلفٹن اور شاہ لطیف ٹاؤن میں تھی، وہ بھی فروخت کی گئی۔ پھر جب میں نے بیرون ملک پراپرٹی خریدنی تھی تو پاکستان کے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں دو اکاؤنٹس ایک پاؤنڈ اور دوسرا ڈالر کےلئے کھولے گئے۔ ان اکاؤنٹس میں 7 لاکھ پاؤنڈ کی رقم منتقل کی گئی۔ میرے اکاؤنٹس پاسپورٹ کے نام پر ہیں۔ جسٹس فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے عدالت کو اپنی تینوں جائیدادوں کی قیمت بھی بتائی۔ پہلی پراپرٹی 2004ء میں اپنے نام پر خریدی۔ جبکہ 2013ء میں 2لاکھ 43ہزار پاؤنڈ کی پراپرٹی خریدی۔ 2018ء میں جمع کروائے گئے ٹیکس ریٹرنز میں ان تینوں پراپرٹیز کا ذکر تھا۔ تمام پراپرٹیز پاسپورٹ پر خریدی ہیں، کیونکہ لندن میں شناختی کارڈ پر پراپرٹی نہیں خریدی جا سکتی۔ جس پراپرٹی پر بات ہورہی ہے۔ اس معاملے پر لندن میں میرے بچوں بیٹی اور بیٹے کو بھی ہراساں کیا جاتا رہا۔ میں پاکستان میں اور بیرون ملک دونوں جگہ ٹیکس ادا کرتی ہوں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ عدالت میں اپنا مؤقف دیتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ کہ مجھ پر الزام ہے کہ میں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.