شاید میں کیس جیت گیا ہوں۔ فروغ نسیم

شاید میں کیس جیت گیا ہوں۔ کیس صرف اتنا ہے کہ احتساب سب کا بلا تفریق ہونا چاہیے۔ حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم

اسلام آباد ( تیز ترین ) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس کے کیس میں حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ہار جیت کی بات کریں تو شاید میں کیس جیت گیا ہوں۔ کیس صرف اتنا ہے کہ سب کا احتساب بلا تفریق ہونا چاہیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پٹیشنر کی استدعا تھی کہ ریفرنس شوکاز نوٹس کالعدم کیا جائے اور مزید کارروائی نہ ہو۔ وفاق سمیت کسی کو جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے دشمنی نہیں ہے۔ کیس جیتنے یا ہارنے سے زیادہ اہم عدالتی معاونت تھی۔ ہار جیت کا کیس نہیں تھا۔ پھر بھی تکنیکی طور پر ہم جیت گئے ہیں۔ سرینا صاحبہ کو بیان دینا پڑا کہ کیس جیت کر بھی خوش نہیں ہوں۔ انہوں نے کیس کی سماعت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے اس سے زیادہ کوئی کیس تکلیف دہ نہیں رہا۔ جسٹس فائز عیسیٰ ساتھی وکیل رہے ہیں۔ ان کے سامنے پیش ہوا ہوں۔ آج جب جسٹس فائز عیسیٰ کمرہ عدالت میں آئے تو مجھے تکلیف ہوئی۔ کسی کو سزا یا جزا جیت نہیں، ہر آدمی کا احتساب ہماری جیت ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم 10رکنی فل کورٹ بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو خارج کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرلی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا ہے، جب کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.