چین وادی گلوان میں جھڑپ والےعلاقے کے قریب تعمیرات کا اضافہ کرنے لگا

سیٹلائٹ تصاویر سے چین کے نئے انفراسٹرکچر کا اندازہ ہوتا ہے۔ دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے مابین تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ

لداخ ( تیز ترین ) چین وادی گلوان میں بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپ والےعلاقے کے قریب نئی تعمیرات کا اضافہ کررہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے نے چین بھارت سرحد پر چین کی جانب سے تعمیر کئے گئے نئے انفرسٹکچر کی تصاویر شئیر کی ہیں اور کہا ہے کہ ان سیٹلائٹ تصاویر سے چین کے نئے انفراسٹرکچر کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس پیشرفت سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ممالک کے مابین تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ چین کی جانب سے اس علاقے میں نئی تعمیراتی سرگرمیوں کی یہ سیٹلائٹ تصاویر 15 جون کو ہونے والی جھڑپ کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہیں۔ جس میں کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈیپسنگ کے علاقے میں بڑی تعداد میں چینی فوجیوں کے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے متعدد خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں دعوی کیا گیا ہے کہ دولت بیگ اولڈی میں بھارتی فضائیہ کی ایک بیس سے صرف تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ڈیپسنگ میں چین نے بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین ابھی لداخ اور سکم میں بھی کشیدگی جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اپنے 30 جنگی طیارے سرحد پر پہنچا دئے ہیں۔ طیارے چین کی سرحد کے قریب تعینات کئے گئے ہیں ان طیاروں میں روسی ساختہ ایس یو 30 بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.