قاضی فائزعیسیٰ کو دھمکی دینے والے29 سالہ شخص نے سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کرا دیا۔

ملزم افتخار الدین کے دماغ پر مسلسل دواؤں کے استعمال کی وجہ سے برا اثر پڑتا ہے۔ بے عقلی اور مایوسی والی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔ توہین عدالت کیس میں ملزم کی طرف سے جواب میں مؤقف

اسلام آباد ( تیز ترین ) قاضی فائزعیسیٰ کو قتل کی دھمکیاں دینےوالےشخص نے سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ “29 سال سے پیش امام ہوں، زبان پھسل گئی”۔ قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے والے شخص کا مؤقف سامنے آگیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دھمکی آمیز ویڈیو اور ان کے قتل پر اکسانے والے شیعہ عالم ملزم آغا افتخار الدین مرزا نے اپنے خلاف توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے افتخار الدین مرزا باقاعدگی سے ادویات لیتے ہیں جس کے سبب انکے دماغ پر برا اثر پڑتا ہے۔ بعض اوقات غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے، بے عقلی اور مایوسی والی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ افتخار الدین مرزا گزشتہ انتیس سالوں سے مورگاہ راولپنڈی میں امام گاہ میں پیش امام ہیں۔افتخارالدین عمومی طور پر مغرب کی نماز کے بعد اپنے چند طالب علموں سے حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے تھے۔ چودہ جون کو ملزم کی زبان پھسل گئی، اس نے جسٹس قاضی فائز عیسی اور سپریم کورٹ کے بارے میں جو کہا اس پر ندامت ہے، جیسے ہی غلطی کا احساس ہوا سپریم کورٹ معافی نامہ جمع کرایا جسے مسترد کردیا گیا۔ جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے، افتخارالدین مرزا یہ عہد کرتے ہیں وہ مستقبل میں کبھی ایسی بات نہیں کریں گی۔ جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ معافی نامہ قبول کرکے توہین عدالت کی کارروائی ختم کردے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.