نوازشریف کو سزا سنانے کے پیچھے سب مقاصد عیاں ہوگئے۔ مریم نوازکا ٹویٹرپیغام

آج سے 2 سال پہلے نوازشریف وطن واپس نہ آتے تو پاکستانی عوام کیسے جان پاتی کہ نوازشریف کوسزا کیسے سنائی گئی۔

لاہور ( تیز ترین ) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کو سزا پیچھے سب مقاصد عیاں ہوگئے ہیں۔ آج سے دو سال پہلے نوازشریف وطن واپسی کا فیصلہ نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا اور نہ ہی قوم جان سکتی کہ بےگناہ نوازشریف کو کیسے سزا سنائی گئی۔

maryam Nawaz Sharif

انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جب میری والدہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور ووٹ اپنی عزت کی جنگ لڑرہا تھا، عین اس وقت سزا سنانے کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ آج سب پہ عیاں ہوچکے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ انتقام کو دیکھتے ہوئے بھی ہم اگر دو سال پہلے آج کے دن واپسی کا مشکل فیصلہ نہ کرتے تو آج ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا اور نہ قوم جان سکتی کہ کیسے بے گناہ نواشریف کو دباؤ میں آکر ناحق سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی مٹی گواہ ہے اور رہے گی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ دو سال قبل آج کے دن مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اپنی بیٹی مریم نوازکو ساتھ لے کر، اپنی بیماراور بسترِ مرگ پر پڑی اہلیہ بیگم کلثوم نواز (مرحومہ) کو لندن چھوڑ کر گرفتاری دینے وطن واپس آئے تھے۔ دونوں کو لاہور ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔ دوسری جانب جج ارشد ملک دباؤ ثابت نہیں کرسکے۔ ملاقاتیں اپنی مرضی سے کرتے رہے۔ احتساب عدالت کے جج کے خلاف ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف انکوائری رپورٹ میں جج کو قصوروار قرار دیتے ہوئے نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے جج ارشد ملک کے خلاف 13 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ تیار کی ہے۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروپوں میں رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ ارشد ملک نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا جس سے ظاہر ہو کہ خوفزدہ یا ہراساں کیا گیا تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.