پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی جانب سے 15 اگست کو تعلیمی ادارے کھولنے کے اعلان پر حکومت کا موقف۔

حکومت نے ستمبر سے پہلےپرائیویٹ سکول اور تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد ( تیز ترین ) گذشتہ دن آل پاکستان پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے 15 اگست سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے تعلیمی ادارے 15 اگست سے کھولنے کا اعلان کیا۔ اسلام آباد میں آل پاکستان پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے پیر کو مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن کے صدر ہدایت خان نے دو ٹوک کہا کہ ہم پاکستان بھر کے تعلیمی ادارے کھولیں گے۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے ملک کے بچوں کی تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا زوال پذیر ہے اور مریض بھی کم ہوگئے ہیں۔ حکومت سے مذاکرات بھی کے گئے، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 15 اگست 2020 کو پاکستان بھر کے تعلیمی ادارے کھول دیں گے۔ اگر ہمارے اداروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ہم ملین مارچ کریں گے اور تحریک بھی چلائیں گے۔
صدر ایسوسی ایشن نے کہا کہ پریس کانفرنس میں سکول کھولنے کے لیے ایس او پیز بھی بتائی جائیں گیں۔اس اعلان کے بعد حکومت کا مؤقف آ گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی 15 ستمبر سے پہلے سکولز کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے کرونا کی صورت حال کے پیش نظر 15 ستمبر سے پہلے سکول کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 15 سمتبر سے کھولے جائیں گے۔ جولائی کے دوسرے ہفتے سے ایس او پیز کے تحت فنی تعلیم اور مدارس کو امتحانات لینے کی اجازت ہو گی۔ عید کے بعد یونیورسٹیوں کو اختیار ہو گا کہ وہ 30 فیصد طلباء کو ہاسٹلز میں رکھ سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر حالات موافق نہ ہوئے تو تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ مؤخر کیا جائے گا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.