اغوا ہونے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان بخیریت گھر واپس پہنچ گئے

مطیع اللہ جان اُن کی ٹویٹس پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں ان کی سپریم کورٹ میں پیشی سے ایک دن قبل اغوا ہوئے تھے۔

اسلام آباد ( تیز ترین ) پاکستانی صحافی مطیع اللہ جان جنہیں اسلام آباد کے سیکٹر جی سِکس سے زبردستی اغوا کیا گیا تھا، اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں اغوا کاروں نے راولپنڈی کوہاٹ روڈ پر فتح جنگ کے قریب چھوڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو دن دھاڑے وفاقی دارالحکومت کی ایک مصروف گلی سے سیاہ وردیوں اور سول کپڑوں میں ملبوس ایک درجن کے قریب افراد کی طرف سے اغوا کئے جانے کی واردات کی ایف آئی آر تھانہ آبپارہ میں درج کی گئی تھی۔ مطیع اللہ جان کے بھائی کی طرف سے دی گئی درخواست پر درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مطیع اللہ جان کو صبح گیارہ بجے فیڈرل گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول جی سکس ون تھری اسلام آباد سے سیاہ وردیوں میں ملبوس افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد جن کی تعداد ایف آئی آر میں بیان نہیں کی گئی ایک ڈبل کیبن پولیس وین جس پر پولیس کی ہنگامی لائٹیں بھی لگی ہوئی تھی، سمیت کچھ کاروں میں سوار تھے۔ یہ ساری کارروائی سکول کی عمارت کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں فلم بند ہو گئی ہے۔ محمد حنیف اے ایس آئی تھانہ آبپارہ کی طرف سے درج کی جانے والی اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ واقعہ کی تفصیلات سے تھانہ ایس ایچ او اور پولیس کے دیگر حکام کو فوری طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے۔
ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مغوی کی بازیابی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔ یہ درخواست مغوی کے بھائی کی طرف سے دائر کی گئی ہے اور اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مطعیع اللہ جان سینئیر صحافی ہیں اور وہ حکومتی اقدامات کے ناقد ہیں۔ اس درخواست میں وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور اسلام آباد پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے سینئرصحافی مطیع اللہ جان کو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ اگر مطیع اللہ کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا تو فریقین کل ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔
انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیغام میں اس خبر کو تشویشناک قراردیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا ہے۔ وہ منگل کی صبح ساڑھے نو بجے انہیں سیکٹر جی سکس میں واقع اس سرکاری سکول تک چھوڑنے آئے تھے، جہاں وہ پڑھاتی ہیں۔ مطیع اللہ کی اہلیہ کے مطابق انہیں سکول کے سکیورٹی گارڈ نے مطلع کیا کہ ان کی گاڑی سکول کے باہر تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سے کھڑی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.