اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ نیب کے ہوتے معیشت نہیں اٹھ سکتی۔

حکومت نےسوچ لیا کہ ایک دن عمران خان سمیت ہر وزیر، مشیر نیب کی حراست میں ہوگا، اس لیے نیب قوانین میں تبدیلی ہونے کو ہے۔ سینئر تجزیہ کار سلیم صافی کا ٹویٹ

لاہور ( تیز ترین ) سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہچنی ہے کہ نیب کے ہوتے معیشت نہیں اٹھ سکتی۔ حکومت نے سوچ لیا کہ ایک دن عمران خان سمیت ہر وزیر مشیر نیب کی حراست میں ہوگا۔ اس لئے نیب قوانین میں تبدیلی ہونے کو ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اسٹیلشمنٹ اس نتیجے تک پہنچی ہےکہ نیب کے اس اختیار اور کردار کے ہوتے ہوئے معیشت اٹھ نہیں سکتی۔ ۔حکومت اس نتیجے پہ پہنچی ہے کہ آج نہیں تو کل عمران خان سمیت پی ٹی آئی کا کم وبیش ہر وزیر مشیر نیب کی حراست میں ہوگا۔ اس لئے قانون تبدیل ہونے کو ہے۔ پھرچیئرمین نیب کے بارے میں مکافات عمل کا قانون روبہ عمل ہوگا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے نیب قوانین میں متعدد ترامیم کی تجاویز پیش کیں۔ نیب قوانین میں حکومتی ترامیم کے مجوزہ مسودے میں چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹرجنرل کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجاویز دی گئی ہیں۔ یہ مسودہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں مشاورت کے لئے اپوزیشن کو پیش کیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے مجوزہ مسودے میں نیب قوانین میں متعدد ترامیم کی تجویز دی گئی ہیں۔ مسودے میں کہا گیا کہ موجودہ نیب قوانین کے تحت چیئرمین کی مدت ملازمت 4 سال اور ناقابل توسیع ہے۔ نیب قوانین کے تحت ڈپٹی چیئرمین اور پراسکیوٹرجنرل کی مدت ملازمت 3 سال ہے اور ناقابل توسیع ہے۔ وفاقی اور صوبائی ٹیکس معاملات، لیوی اور محصولات پر نیب قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.