کٹھ پتلی وزیر اعظم نے جنرل باجوہ اور خواجہ آصف کی بات کرکے دھاندلی کا اعتراف کرلیا

نوازشریف کی تقریر پر بوٹ پالش کرنے کا موقع ملا تو بونگی مار دی کہ خواجہ آصف نے رات 8 بجے جنرل باجوہ کو فون کیا کہ میں ہار رہا ہوں۔ جنرل باجوہ نے جتوا دیا۔
باجوہ صاحب! شکایت ہم سے نہیں اپنے دوستوں سے کیجئے گا۔ سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کا خطاب

کراچی ( تیز ترین ) جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی نے جنرل باجوہ اور خواجہ آصف کی بات کرکے دھاندلی کا اعتراف کرلیا، نوازشریف کی تقریر پر بوٹ پالش کرنے کا موقع ملا تو بونگی مار دی کہ خواجہ آصف نے رات 8 بجے جنرل باجوہ کو فون کیا کہ میں ہار رہا ہوں۔ جنرل باجوہ نے جتوا دیا، لیکن اسے یہ خیال نہیں آیا کہ میں دھاندلی کا اعتراف کررہا ہوں۔
باجوہ صاحب! شکایت ہم سے نہیں اپنے دوستوں سے کیجئے گا۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے پیپلزپارٹی کے زیراہتمام کراچی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ دوسال سے ہم میدان کارزار میں ہیں، ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم بدترین دھاندلی کے نتیجے میں قائم کی گئی حکومت کو تسلیم کرلیں، لیکن تمام مراحل گزر گئے، ہمیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا، لالچ ترغیب بھی دی گئی، لیکن ہم دھمکیوں اور لالچ سے متاثر نہیں ہوئے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں ہے۔ ہم اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں تاریخی جلسہ ہوا، میاں نوازشریف نے بھی خطاب کیا، ان کا خطاب الیکٹرانک میڈیا پر نہیں دکھایا گیا، لیکن ان کے خطاب پر ہمارے کچھ بڑوں کو بڑا اعتراض تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جب آخری بجٹ پیش کررہی تھی تو معاشی ترقی کا تخمینہ 5.5 فیصد اور اگلے سال کا 6.5 فیصد لگایا گیا تھا، لیکن حکومت جب چوری سے ووٹ لے کر آنے والوں کو ملی تو سالانہ تخمینہ 1.8 پر اب معیشت صفر پوائنٹ پر آگئی ہے۔ جب معیشت کی کشتی ڈوبتی ہے تو پھر ریاستیں اپنا وجود کھو دیتی ہیں۔ سویت یونین سپر پاور تھی، لیکن جب معاشی اعتبار سے تباہ ہوا تو وجود قائم نہیں رکھ سکا۔ یہاں بیٹھے لوگ پاکستان، آئین اور معیشت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جن قوتوں نے کہا اس جمہوریت کو تسلیم کرو، ہم آپ سے منوائیں گے کہ غلطی ہوئی ہے، معافی مانگتے ہیں۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔ آپ بھی پاکستانی ہم بھی پاکستانی ہیں۔ عزت سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ میرے اکابرین نے ڈیڑھ سوسال تک جنگیں لڑی ہیں۔ ان کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سولی پر چڑھایا گیا۔ درختوں پر لٹکایا گیا، لیکن آزادی کی جنگ جاری رکھی تھی۔
ہم بھی اس علم کو بلند رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے والے خواب کے بدلے 26 لاکھ خاندانوں کوبے روزگار کردیا گیا ہے۔ 72 سالوں میں پاکستان کے ملازمین کی تعداد آج بھی ایک کروڑ نہیں ہے۔ میرے نوجوانوں کو بھی سوچنا چاہیے آنکھیں بند کر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ میں کراچی والوں سے پوچھتا ہوں کہ 50 لاکھ مکان کہاں دیں گے۔ لوگوں کو بے گھر کردیا ہے، ان کو گھر دینا نہیں بے روزگار کرنا اور بے گھر کرنا آتا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.