سعودی عرب میں کفالت کا نظام ختم کرنے پر غور لیکن کیااس کا کوئی اور متبادل ہوگا؟ خبرآگئی

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں غیر ملکی ملازموں کی کفالت کے نظام کو ختم کرنے کے ایک اور منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب  وزارت برائے ہیومن ریسورسز ایک اور دوسرا نظام متعارف کروائے گی جس میں مالک اور ملازم کے درمیان براہ راست معاہدہ طےہو گا۔

اس معاہدے کا مقصدصرف اور صرف تارکین وطن مزدوروں اور آجروں کے مابین روابط کو بہترسے بہتر بنانا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نئے نظام کا اطلاق سال2021 کے پہلے چھ مہینوں میں ہو جائے گا جس سے لاکھوں غیر ملکی مزدور مستفید ہو سکیں گے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی مجموعی آبادی تین کروڑ48 لاکھ ہے اور وہاں ایک کروڑ سے زائد غیر ملکی ہیں۔

سعودی عرب میں رائج کفالہ نظام کے تحت سعودی شہری اپنے ملک میں روزگار کے سلسلے میں آنے والے تمام غیر ملکی شہریوں کو سپانسرز کرتے ہیں جسے کفالہ کہا جاتا، سپانسر کرنے کے بدلےمیں سعودی شہریوں کو ایک مختص رقم فراہم کرنی پڑتی ہے۔

سعودی وزارت ہیومن ریسورسز نے کفالت کا نظام ختم کرنے کی خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی فارمولوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزارت کے ترجمان ناصر الہذانی نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’وزارت افرادی قوت لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے متعدد فارمولوں پر کام کر رہی ہے‘۔ترجمان نے بتایا ہے کہ’اس حوالے سے جیسے ہی کوئی نیا فارمولہ منظور ہوگا تو اس کا اعلان جلدکر دیا جائے گا‘۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.