کرونا کے باعث ہمارا بجلی کا نظام متاثر ہوا تھا، اسی وجہ سے قرضے بھی بڑھے ہیں۔ وفاقی معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر

 گردشی قرضہ بڑھ کر 2300 ارب ہوگیا ہے جو پہلے 1100 ارب تھا۔ آج بھی ماہانہ 40 سے 45 ارب روپے گردشی قرضے میں اضافہ ہورہا ہے۔ وفاقی معاون خصوصی برائے توانائی کا بیان

اسلام آباد ( تیز ترین ) وفاقی معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے بتایا ہے کہ گردشی قرضوں میں ماہانہ 40 ارب اضافہ ہورہا ہے۔ گردشی قرضہ 2300 ارب تک جا پہنچا ہے۔ گردشی قرضے کو اگلے سال کے آخر تک بھی صفر پر نہیں لایا جاسکتا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت میں پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ 1100 ارب سے بڑھ کر 2300 ارب ہوگیا ہے۔ آج بھی ماہانہ 40 سے 45 ارب روپے گردشی قرضے میں اضافہ ہورہا ہے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر عمرایوب نے دعویٰ کیا تھا کہ ماہانہ بڑھنے والا35 ارب کا گردشی قرضہ دسمبر2020ء میں صفر کردیا جائے گا۔ جس کے برعکس اب بتایا جارہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے گردشی قرضے کو صفر نہیں کرسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کرونا وباء سے پہلے سرکلرڈیبٹ کو 14 ارب ماہانہ پر لے آئے تھے۔ ان کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ حکومت بجلی کی قیمتیں کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لائن لاسزبھی کنٹرول میں نہیں ہیں۔ بجلی کے بلوں کی وصولیوں میں بھی کمی آئی ہے جس کے باعث سرکلر ڈیبٹ کم کرنے کی بات درست نہیں ہے۔
معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں کرونا کی وجہ سے 100 ارب کا خسارہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر 500 ارب سرکلر ڈیبٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ جو اب 2300 ارب تک ہے۔ لیکن یہ درست ہے کہ گردشی قرضے میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہتا ہم نے گردشی قرضے پر قابو پالیا ہے۔ گردشی قرضے کو اگلے سال کے آخر تک بھی صفر پرلانا ممکن نہیں ہوگا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.