انتخابات کو شفاف قراردینے کے جرم میں صدر ٹرمپ نے سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کردیا۔

سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ نے سی آئی ایس اے کی سرکاری ویب سائٹ پر بیان جاری کیا تھا۔ موجودہ امریکی صدر اوول آفس چھوڑنے سے پہلے محکمہ دفاع‘سی آئی اے ‘ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سیکورٹی سمیت اہم اداروں میں اپنے حامیوں کی تعیناتی چاہتے ہیں تاکہ وہ وائٹ ہاﺅس سے باہر رہ کر بھی نئی انتظامیہ کی راہ میں روڑے اٹکا سکیں. امریکی ادارے کی رپورٹ

واشنگٹن ( تیز ترین ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری ویب سائٹ پر انتخابات کو شفاف قرار دینے کے بیان پر سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے)کے سربراہ کرسٹوفرکو نوکری سے برخاست کردیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر پغام میں کہا ہے کہ وہ سائبرسیکورٹی ادارے کے سربراہ کو صدارتی انتخاب سے متعلق ان کے حالیہ بیان کی بنیاد پر فارغ کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ کرسٹوفر نے الیکشن سے متعلق بہت غلط بیانی کی ہے۔ صدر نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ 3 نومبر کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور دھاندلی ہوئی۔ صدر نے الزام لگایا کہ انتخابات میں مُردوں نے بھی ووٹ دئے۔ مبصرین کو انتخابی عمل کے جائزے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ووٹنگ مشینیں خراب تھیں جنہوں نے انہیں ملنے والے ووٹوں کو بائیڈن کے ووٹ قرار دے دیا اور وقت گزرنے کے بعد بھی لوگوں کو ووٹ دینے کی اجازت دی گئی۔ ٹوئٹر نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر انتباہی نوٹس لگا دیا ہے اپنی برطرفی کے بعد کرسٹوفر کریبز نے اپنے ایک نئے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ٹوئٹ کی کہ انہیں اپنے کام پر فخر ہے۔ ہم نے سب ٹھیک کیا کرسٹوفر کریبز حالیہ دنوں میں امریکی صدارتی انتخاب کے دوران ووٹر فراڈ کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اپنی برطرفی سے قبل کرسٹوفر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی یا فراڈ کے الزامات سے متعلق الیکشن کی سیکورٹی کے 59 ماہرین کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور یہ تیکنیکی طور پر بے ربط ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ کے تکنیکی، سیاسی اورسیکورٹی ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ انتخابات میں دھاندلی یا بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ کئی ریاستوں کی عدالتوں نے جب دھاندلی کے الزامات کے تحت دائرمقدمات کی سماعت کے دوران ثبوت فراہم کرنے کی بات کی تو ری پبلکن امیدوار کے وکلاءکے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے، حتی کہ ریاست مشی گن کی ایک عدالت میں سماعت کے دوارن جج نے ٹرمپ کے وکیل کو بغیر ثبوتوں کے کیس دائر کرنے پر عدالت سے نکل جانے کا حکم دیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.