اگر اسٹیبلشمنٹ ساتھ ہو توملک کا نائی بھی اعتماد کا ووٹ لے کر کامیاب ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر دانش

عمران خان نے ووٹ لینے کے لیے ممبران کو گھروں سے اغوا کرایا اور حکومتی اداروں کی تحویل میں رکھا۔ سینئر صحافی کا انکشاف

اسلام آباد ( تیز ترین ) وزیراعظم عمران خان نے 172 کی بجائے 178 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور ایوان کا اعتماد جیت لیا۔ اس موقعہ پر اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا اور ایوان کے باہر اپنا مجمع لگایا۔ جہاں ہونے والے بدمزگی کے واقعات رونما ہوئے اورسارا دن میڈیا کی رونق بنے رہے۔
گزشتہ دن ہونے والے اعتماد کے ووٹ نے ہر طرف ہلچل مچائے رکھی۔ جس کی خاص وجہ یہ تھی کہ دو دن قبل ہونے والے سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کا ہارنا عمران خان کی انا کو جگا گیا اورانہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے لیے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا اوراس کوشش میں وہ کامیاب بھی ٹھہرے۔ مگر اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں اور کچھ دانشور اور صحافی حضرات مختلف نوعیت کی باتیں کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔ اسی حوالے سے سینئر صحافی ڈاکٹر دانش نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ”اگر اسٹیبلشمنٹ ساتھ ہو تو ملک کا نائی پھتو خان بھی اعتماد کا ووٹ لے لے گا“

ساتھ ہی دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ”عمران خان نے اعتماد کے ووٹ کے لیے ممبران کو گھروں سے اغوا کرایا اور ان کو حکومتی اداروں کی تحویل میں رات بھر بند رکھا اہم ذرائع“۔

بات جب بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے۔ اب اس اعتماد کے ووٹ سے متعلق یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ شہزاد اکبر، عشرت حسین اور رزاق داؤد بھی ایوان میں موجود تھے اور وہ ایم این اے نہیں ہیں تو کیا انہیں بھی ووٹ کے طور پر شمار کیا گیا؟
عمران خان نے اعتماد تو جیت لیا مگر اس کے لیے چیلنجز وہیں کے وہیں کھڑے ہیں کیونکہ کچھ دنوں بعد جب چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا اوراس میں خفیہ ووٹنگ ہو گی تو وہاں ’‘’ضمیر“کا ووٹ ڈالنے والوں کا کیا بنے گا اورانہیں حکومت کیسے کنٹرول کرے گی؟

Facebook Comments

POST A COMMENT.