امریکہ یکم مئی تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا پر غور کر رہا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ

امریکی فوج کے انخلا کے بعد سیکیورٹی حالات پر تشویش ہے کہ مزید خرابی آئے گی اور طالبان تیزی سے معاملات ہاتھ میں لیں گے۔ سیکریٹری اسٹیٹ بلنکن

کابل ( تیز تری )  امریکہ کی حکومت نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود 2500 فوجیوں کے مستقبل کے حوالے سے تمام آپشنز بدستور زیرغورہیں اور یکم مئی سے متعلق وعدے پر کوئی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ بیان سیکریٹری اسٹیٹ بلنکن کے اُس بیان کے بعد جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سربراہی میں امن کوشش کے لیے زوردیا تھا۔ جس میں یکم مئی تک امریکی فوجیوں کے انخلاء کی تنبیہ بھی شامل تھی۔ بلنکن نے افغان صدراشرف غنی کو ایک خط میں لکھا تھا کہ “امریکا یکم مئی تک مکمل فوجی انخلا پر غور کر رہا ہے اور اسی طرح دیگر آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں “۔
 افغان عہدیداروں کی جانب سے اشرف غنی اور امن کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کو لکھے گئے خط کی تصدیق کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے آخری دورے پر افغان رہنماؤں کوعبداللہ عبداللہ نے کابل میں ایک تقریب میں کہا کہ “زلمے خلیل زاد کے دورہ کابل سے دو روز قبل ہی صدراشرف غنی اور مجھے خط موصول ہوا ہے”۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ “امریکہ نے یکم مئی کے بعد افغانستان میں اپنی افواج کی موجودگی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور تمام آپشنز زیرغور ہیں “۔ سیکریٹری اسٹیٹ کے خط کے مطابق “امریکہ اعلیٰ سطح کی سفارتی کوششیں کررہا ہے کہ معاملات تیزی سے حل کی جانب بڑھیں اور مکمل اور مؤثر جنگ بندی ہو”۔ انہوں نے لکھا کہ امریکہ اقوام متحدہ سے بھی کہے گا کہ وہ روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کو جمع کریں تاکہ افغانستان میں امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ اس حوالے سے ترکی سے بھی کہے گا کہ “آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دینے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی میزبانی کرے”۔ بلنکن نے کہا کہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سیکیورٹی حالات پر تشویش ہے کہ مزید خرابی آئے گی اور طالبان تیزی سے معاملات ہاتھ میں لیں گے اور امید ہے کہ اشرف غنی میری جلد بازی کے رویے کو بھی سمجھ پائیں گے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.